May 08

ہم اپنے پچھلے سبق میں پڑھ چکے ہیں کہ ویب سائٹ مختلف قسم کی فائلز کو ایک جگہ جمع کرنے کا کام ہے جیسے ٹیکسٹ (لکھائی) ، آڈیو ، ویڈیو اور تصاویر ۔ ان فائلز کو ایک کمپیوٹر میں رکھا جاتا ہے جسے ویب سرور کہتے ہیں تاکہ پوری دنیا سے لوگ ہماری ویب سائٹ کو دیکھ سکیں اور اُس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔ ایک ایسی ویب سائٹ جس تک دنیا کی رسائی ہو اُس کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک تو اُس ویب سائٹ کا نام یعنی ڈومین نیم (Domain Name) اور دوسری چیز ویب سرور یا ویب ہوسٹنگ (Web Server or Web Hosting)

مختلف کمپنیاں مختلف سہولیات کی بناء پر مختلف قیمتوں پر دونوں چیزیں یعنی ڈومین نیم اور ویب سرور یا ویب ہوسٹنگ فراہم کرتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی ذہین میں رہے کہ ہم اپنا ویب سرور خود بھی بنا سکتے ہیں کیونکہ ویب سرور بھی دوسرے کمپیوٹرز کی طرح ایک کمپیوٹر ہی ہوتا ہے لیکن اس میں موجود سوفٹ وئیرز اسے دوسرے کمپیوٹرز سے جدا ایک ویب سرور بناتے ہیں۔ اب چونکہ دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی کسی بھی وقت ہماری ویب سائٹ دیکھنے کے لیے کھول سکتا ہے تو ہمارا ویب سرور ہر وقت چلتے رہنا چاہیے، اسی طرح اس ویب سرور میں موجود سوفٹ وئیرز میں اگر کبھی کوئی خرابی آ جائے تو ہم اُسے ٹھیک کر سکیں ، پھر ہمیں اپنی ویب سائٹ کی فائلز کی حفاظت بھی کرنی ہوگی تاکہ کوئی اُنہیں چرا نہ لے۔ تو اگر آپ یہ سارے کام بآسانی کر سکتے ہیں تو آپ اپنا ویب سرور بنا کر اُس پر اپنی ویب سائٹ کی فائلز رکھ دیں اور اگر نہیں تو جو کمپنیاں ویب سرور کی سہولت فراہم کرتی ہیں اُن میں سے کسی ایک کا انتخاب فرما لیں۔ ویب سرور کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی کا انتخاب کن بنیادوں پر کرنا چاہیے اسے ہم کسی اگلے سبق میں پڑھیں گے۔

ہم جو اپنی ویب سائٹ کی فائلز ویب سرور پر رکھتے ہیں اسے ویب ہوسٹنگ کہتے ہیں۔ عام طور پر کمپنیاں دونوں نام (ویب سرور اور ویب ہوسٹنگ) یا دونوں میں سے کوئی ایک نام استعمال کرتی ہیں۔

اب ہم دوسری چیز یعنی ڈومین نیم (domain name) کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ ڈومین نیم کسی بھی ویب سائٹ کا نام یا اُس کا ایڈرس کہلاتا ہے بالکل اُسی طرح جس طرح ہمارے گھر یا دفتر کا ایک ایڈرس ہے۔ اگر کوئی کسی ملک سے مثال کے طور پر امریکہ سے ہماری ویب سائٹ کو دیکھنا چاہے تو اُس کو ہماری ویب سائٹ تک پہنچنے کے لیے اُس کا ایڈرس چاہیے اسی کو ڈومین نیم کہتے ہیں۔ ڈومین نیم آئی پی (IP) کی شکل میں ہوتا ہے جیسے 208.65.153.238 لیکن ایک سسٹم کے ذریعے جسے ڈومین نیم سرور (Domain Name Server DNS) کہتے ہیں اسے اس قابل بنایا جاتا ہے جو انسانوں کی سمجھ میں آسکے اور آسانی سے یاد بھی رہ سکے۔ اب ظاہر ہے کہ ہر ویب سائٹ کا ایک ایڈرس یعنی آئی پی ہو گی تو اگر یوٹیوب کے لیے (208.65.153.238) ، فیس بک کے لیے (66.220.144.0)،اور یاہو کے لیے (72.30.243) وغیرہ وغیرہ آئی پیز لکھنی پڑیں تو یہ بہت ہی مشکل کام ہے جبکہ اس کے برعکس www.youtube.com, www.facebook.com, or www.yahoo.com کو یاد رکھنا اور لکھنا دونوں ہی آسان ہیں۔

تو آپ کو بھی اپنی ویب سائٹ کے لیے ایک نام لینا ہو گا جس کے ذریعے دنیا آپ کی ویب سائٹ تک پہنچے گی۔ ڈومین نیم یا ویب سائٹ کا نام کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن ڈومین نیم لیتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ویب سائٹ کے مواد کو ظاہر کرتا ہو یعنی ویب سائٹ کانام سن کر یا پڑھ کر اندازہ ہو جائے کہ یہ ویب سائٹ کس موضوع پر بنی ہے۔ اور ڈومین نیم کے ساتھ ویب ہوسٹنگ بھی لینی ہو گی۔ اگلے سبق میں ہم یہ دیکھیں گے کہ ڈومین نیم اور ویب ہوسٹنگ کس طرح لی جاتی ہے۔